یوم آزادی پر ایک شاندار تقریر
تقریر کو پی ڈی ایف میں ڈاؤنلوڈ کرنے کے
یہاں کلک کریں
FOR PDF DOWNLOAD
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی عَلیٰ رَسُوْلِہ الْکَرِیْمْ اما بعد !
دل سے نکلے گی، نہ مر کر بھی وطن کی محبت
میری مٹی سے بھی ،خوشبوئے وفا آئے گی
محترم جناب ناظم صاحب، مشفق اساتذہ کرام اور معزز سامعین !
آج 15 اگست ، یوم آزادی کی سالگرہ ہے، جی ہاں آج سے 76 سال پہلے، آج ہی کی تاریخ،15 اگست 1947 عیسوی کو ،ہمارا ملک، انگریزوں کے تسلط سے آزاد ہوا تھا۔ غلامی کی زنجیروں کو، آزادی کے متوالوں نے توڑ ڈالا ،جس کے نتیجے میں ،الحمدللہ ،آج ہم آزاد ہیں، پورے ملک میں آزادی کا جشن منایا جا رہا ہے، ہر طرف خوشی کے گیت گائے جا رہے ہیں، قومی اور ملی ترانے پڑھے جا رہے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ،مسرت و شادمانی کایہ دن، کیا انگریزوں ،نے سونے کی تھالی میں سجا کر، ہمیں سوغات میں بھینٹ کیا تھا ؟؟؟؟؟
نہیں ! نہیں! سو بارنہیں! وطن عزیز کی آزادی کے لیے .........
نہ جانے کتنی بار ہم ہندوستانیوں کے خون بہائے گئے
لاکھوں ہندوستانیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا
ہزاروں علماء اور مجاہدین کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا
لاکھوں لوگوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا
ہزاروں علماء اور مجاہدین کو، جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا گیا
تب کہیں جا کر آزادی کا یہ دن نصیب ہوا ۔
محترم حضرات! ہمارا ملک خوشحال تھا
ہندو مسلم اتحاد کی مثال تھا
پیار اور محبت اس کی پہچان تھی
قومی یکجہتی اور رواداری اس کی شان تھی
لیکن شاطر انگریزوں نے، ملک کی دولت کو لوٹ لیا، دیسی صنعتوں کو تباہ و برباد ک دیا، گنگا جمنی تہذیب کو ملیا میٹ کر دیا، اور ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا۔
لیکن ہزار ستم کے باوجود، وطن کی آزادی کے لیے، مذہب کی آزادی کے لیے، ہندوستانیوں نے متحد ہو کر، سر پر کفن باندھ کر، ان کا مقابلہ کیا۔ سرفروشی کی تمنا، اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور ،کتنا بازو قاتل میں ہے
محترم حضرات! بالآخر انگریزوں کو جھکنا پڑا، اور ہمارا ملک آزاد ہوا، آزادی کے بعد ایک مشترکہ آئین مرتب ہوا ،جس میں تمام شہریوں کو، بلا تفریقِ مذہب و ملت، آزادی دی گئی، ان کے حقوق کو، تحفظ فراہم کیا گیا۔
لیکن بدقسمتی سے آج ہمارا ملک، بھید بھاؤ کی سیاست کا شکار ہو گیا ،نفرت کی سیاست پروان چڑھ رہی ہے ،خصوصا مسلمانوں کو ہر محاذ پر پیچھے ڈھکیلا جا رہا ہے، اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جبکہ وطن عزیز کی آزادی میں ،ہم مسلمانوں کی قربانیاں، برادران وطن سے، ہزاروں گنا زیادہ ہیں۔ اس کے باوجود آج ہمھیں کو ملک کا بے وفا، اور غدار تک کہا جا رہا ہے۔
دل سے نکلے گی، نہ مر کر بھی وطن کی محبت
میری مٹی سے بھی ،خوشبوئے وفا آئے گی
توآئیے دوستو ! ہم یہ عہد کریں کہ ایک بار پھر ،ہم متحد ہو کر ،نفرت کی سیاست، اور نفرت کی غلامی سے، ملک کو آزاد کرائیں گے ،پیار و محبت کی بات کریں گے ،تبھی ہمارا ملک ترقی کرے گا ،اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ ِِِِالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنْ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا تبصرہ ضرور درج کریں کیونکہ آپ کی ادنی رائے کسی کے لئے مشعل راہ بن سکتی ہے.