جمعہ، 14 اگست، 2020

راحت اندوری

2020---1950



اگر خلاف ہیں، ہونے دو، جان تھوڑی ہے
یہ سب دھواں ہے، کوئی آسمان تھوڑی ہے

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

میں جانتا ہوں کہ دشمن بھی کم نہیں لیکن
ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے

ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے
ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے

جو آج صاحبِ مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے

سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے

اتوار، 26 جولائی، 2020

اردو نیٹ یو جی سی امتحان کی تیاری کیسے کریں؟ یو جی سی نیٹ اردو امتحان کی تیاری کیسے کریں؟ نیٹ اردو امتحان کی تیاری کیسے کریں؟

HOW TO PREPARATION FOR UGC NET URDU EXAM
یو جی سی نیٹ اردو امتحان کی تیاری کیسے کریں. 
اس امتحان کی تیاری میں کچھ معاون کتب یہ ہیں..
1--منار اردو
جس کے رائٹر...... 
2---رہنمائے معروضی سوالات 

اتوار، 19 جولائی، 2020

میرٹ لسٹ بنانے کا طریقہ طلبہ کی رینکنگ کیسے نکالیں How to ranking for top three or top ten or everyone, .

بسم اللہ الرحمن الرحیم
قارئین کرام ! مدارس ہوں یا اسکول، کالج، بورڈ کے امتحانات ہوں یا مقابلہ جاتی امتحان ، طلبہ کی رینکنگ یا میرٹ لسٹ یعنی درجہ بندی کرنا ایک عام ضرورت کی چیز ہے.
اور عموماً اس طرح کے ڈیٹا data مائکروسافٹ آفس کے ایم ایس ایکسل میں فیڈ کئے جاتے ہیں. تاکہ ان کے نمبرات کے bases جیسے فیصد / ڈویژن /فیل/پاس یہاں تک کہ مارک شیٹ وغیرہ create کرنے اوربنانے کا کام بھی بآسانی کیا جا سکے.
انہیں میں سے ایک اہم کام رینکنگ یعنی درجہ بندی کا بھی ہے اور اسکے لئے ایکسل میں RANK  فنکشن فارمولا کا استعمال کیا جاتا ہے. یہ فارمولا جب کسی ڈیٹا لسٹ پر لگایا جاتا ہے تو یہ پوری لسٹ کی درجہ بندی کر دیتا ہے. جسے آپ نیچے دی گئی مختصر ڈیٹا شیٹ میں دیکھ سکتے ہیں.
لسٹ میں کل چودہ طلبہ کے نمبرات ہیں اور ہر طالب علم کا نمبر دوسر سے الگ ہے اس لیے رینکنگ پوزیشن بھی چودہ تک گئی ہے اب اگر ہم مثلا top three   یعنی اوپر کے تین طالب علم کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں تو RANK فارمولا نے سب سے زیادہ نمبر والے طالب علم کو نمبر ایک پر اور اس سے کم نمبر والے کو نمبر دو پر اور اس سے کم والے کو نمبر تین پر رکھا ہے جسےآپ row number 3,6,9, پر الگ الگ کلر میں دیکھ سکتے ہیں.

اس شیٹ میں RANK فارمولا استعمال کیا گیا ہے اور کسی کا نمبر مساوی نہیں ہے.


لیکن اس فنکش میں problem دقت یہ آتی ہے کہ اگر دو طالب علم کے نمبرات مساوی ہو جائیں  مثلاً نیچے دی گئی ڈیٹا شیٹ میں  row 3   ،    6 کے نمبرات سب سے زیادہ اور مساوی ہیں تو ان دونوں کو نمبر ایک کی رینک میں رکھتا ضرور ہے مگر اس سے کم نمبر والے طالب علم کو جو در حقیقت نمبر دو کی رینک کا ہے اسے نمبر تین کی رینک پر رکھ دیتا ہے اور نمبر دو کی رینک کو حذف skip کر دیتا ہے

اس شیٹ میں سب سے زیادہ نمبر والے دو طالب علم کے نمبر مساوی ہیں.

اسی طرح اگر نمبر دو کی رینک والے row 6 , 9   کے طالب علم مساوی ہو جائیں تو دونوں کو نمبر دو کی رینک پر رکھتا ضرور ہے مگر نمبر تین کی رینک کو skip کر دیتا ہے.

اس شیٹ میں دوسرے نمبر کے دو طالب علم کے نمبر مساوی ہیں 

اس problem دقت کو دور کرنے کے لیے ایکسل کے ماہرین نے دوسرے فارمولوں کی مدد سے ایک نیا طریقہ ایجاد کیا ہے جسے آپ ذیل کی شیٹ میں دیکھ سکتے ہیں کہ مساوی نمبرات کے طلبہ کو ایک ہی رینک میں رکھتا ہے اور اگلے رینک نمبر کو skip بھی نہیں کر تا ہے.
اس شیٹ میں ایک الگ فارمولے کا استعمال کیا گیا ہے مساوی نمبرات ہونے کے باوجود کسی رینک نمبر کو skip نہیں کرتا ہے.

مندرجہ بالا شیٹ میں آپ مساوی نمبرات والے طلبہ کی رینک کو الگ الگ کلر میں دیکھ سکتے ہیں اور رینک نمبر skip بھی نہیں کرتا ہے.
اسے SUMPRODUCT اور COUNTIF فنکشن کو ایک مخصوص طریقے پر استعمال کیا ہے.

اس فنکشن کی  Sample file آپ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں. 
Click here to
ابو محمد سعدان مفتاحی
مئو ناتھ بھنجن یو. پی 

جمعرات، 16 جولائی، 2020

بسملہ بین السورتین کی وجوہات کا اجراء کیسے کریں؟ بسملہ بین السورتین میں قراء کے اختلافات.

بسملہ بین السورتین کا اجرا  ء اس طرح کریں 
بسملہ بین الفاتحہ والبقرۃ
بسملہ بین البقرۃ و آل عمران 

اس نقشہ کی مددسے آپ بہ آسانی بسملہ بین السورتین کی جملہ وجوہات کا اجرا  ء کر سکتے ہیں. 

بدھ، 8 جولائی، 2020

امالہ کی تعریف. تقلیل کی تعریف. امالہ کسے کہتے ہیں. تقلیل کسے کہتے ہیں

باب الفتح والإمالة    

فتح سے مراد اس باب میں قاری کا الف اور اسکے ما قبل کے ساتھ اپنے منھ کو سیدھے کھول دینا ہے نہ کہ کسی حرف مفتوح کا فتحہ.
المراد بالفتح فتح الفم بالألف وما قبلها فتحا مستقيما لا فتح الحرف( الھادی ص 293)
والامالۃ لغۃ :التعویج.
امالہ کا لغوی معنی :
 امالہ لغت میں کہا جاتا ہے کسی چیز کو مائل کرنا، جھکانا،موڑنا،اور ٹیڑھا کرنا. کہا جاتا ہے :املت الرمح ونحوہ اذا عوجتہ عن استقامتہ.
او الانحناء : یقال امال ظہرہ اذا احناہ.

امالہ کا اصطلاحی معنی :

امالہ اصطلاح قراء میں دو قسموں کی طرف منقسم ہوتا ہے.
(1)امالہ کبری (2)امالہ صغریٰ.
علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ النشر میں فرماتے ہیں " والإمالةُ أنْ تَنْحُوَ بالفتحة نحو الكسرة، وبالألف نَحْوَ الياءِ (كَثِيرًا) وهو المَحْض، ويُقال له: الإضْجَاعُ، ويُقال له: البطْحُ، ورُبَّمَا قِيلَ له: الكسرُ أيضًا، (وقَلِيلًا) وهو بين اللَّفْظَيْنِ، ويُقال له أيضًا: التَّقليلُ، والتَّلْطِيفُ، وبَيْنَ بَيْنَ."
اور آگے فرماتے ہیں" ﻭاﻹﻣﺎﻟﺔ اﻟﺸﺪﻳﺪﺓ ﻳﺠﺘﻨﺐ ﻣﻌﻬﺎ اﻟﻘﻠﺐ اﻟﺨﺎﻟﺺ ﻭاﻹﺷﺒﺎﻉ اﻟﻤﺒﺎﻟﻎ ﻓﻴﻪ"
 اور شیخ محمد سالم محیسن الھادی شرح طیبۃ النشر میں فرماتے ہیں :" واصطلاحا: تنقسم إلى قسمين: كبرى، وصغرى:
فالكبرى: أن تقرب الفتحة من الكسرة، والألف من الياء، من غير قلب خالص، ولا إشباع مبالغ فيه، وهي الإمالة المحضة، ويقال لها: الإضجاع، والبطح، وهي المرادة عند الإطلاق.
والصغرى: هي ما بين الفتح والإمالة الكبرى، ويقال لها: التوسط، والتقليل، وبين اللفظين، وبين بين: أي بين الفتح والإمالة"

 امالہ کبری :

 فتحہ کو کسرہ اور الف کو یا کی طرف مائل کرنا بغیر مبالغہ اور زیادتی کے.(یا یہ کہیں" الف ممالہ کو الف اور یا کے درمیان ادا کرنا ") اور اسکو اضجاع اور امالہ محضہ بھی کہا جاتا ہے. 
نوٹ : اور جب مطلق امالہ بولا جاتا ہے تو یہی مراد ہوتا ہے.

امالہ صغریٰ :

 فتحہ کو کسرہ اور الف کو یا کی طرف مائل کرنا لیکن الف سے ہی کے قریب تر ہو. (یا یہ کہیں کہ" الف ممالہ کو الف اور امالہ کبری کے درمیان ادا کرنا ") اسکو توسط ، بین اللفظین، اور بین بین اور تقلیل بھی کہا جاتا ہے.

امالہ صغریٰ : 

امالہ صغریٰ کی تعریف یوں بھی کی جاتی ہے : 
امالہ کبری اور الف کے درمیان ادا کرنا (جیسا کہ الھادی کی عبارت میں موجود ہے.) 

نوٹ :

 امالہ صغریٰ کو اردو میں علی العموم تقلیل ہی سے تعبیر جاتا ہے.
امالہ کبری اور صغریٰ کو درج ذیل امیج (تصویر) سے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے.


یعنی امالہ کبری، الف اور یا کے درمیان بالکل بیچ و بیچ ہونا چاہئے اسمیں کمی بیشی نہیں ہونی چاہئے.
نیزشیخ الدکتو ایمن رشدی سوید کی کتاب التجوید المصور کی یہ تصویر امالہ اور تقلیل کی ادائیگی کی لسانی کیفیت کو بولتی تصویر کی طرح واضح کرتی ہے. 

یہ تصویر  دکتور ایمن رشدی سوید کی کتاب التجويد المصور سے لی گئی ہے،فجزاہ اللہ عنا احسن الجزاء 

 اس تصویر کو غور سے دیکھنے پر آپ کو معلوم ہوگا کہ امالہ کی ادائیگی میں زبان تالو کے زیادہ قریب ہے بہ نسبت تقلیل کے، کیونکہ یا،  پیچ زبان تالو سے مل کر ادا ہوتی ہے لہذا ہم جس قدر الف کو یا کے قریب کرتے جائیں گے زبان اتنی ہی تالو سے قریب تر ہوتی جائے گی اسی لئےامالہ کبری کی ادائیگی میں زبان اور تالو کے بیچ کا فاصلہ کم ہے اور امالہ صغریٰ یعنی تقلیل میں فاصلہ زیادہ ہے. اسکی وجہ یہی ہے کہ امالہ کبری میں تقلیل کی بہ نسبت الف کو یا کی طرف زیادہ مائل کیا گیا ہے اور اگر بالکل ہی الف کو یا سے بدل دیا جائے تو پیچ زبان تالو سے جا کر مل جائے گی.
جیسے کی درج ذیل تصویر میں ملاحظہ فرمائیں.
یہ تصویر بھی شیخ دکتور ایمن رشدی سوید کی کتاب التجويد المصور سے لی گئی ہے. فجزاہ اللہ عنا احسن الجزاء. 



اب آپ اس تصویر میں دی گئی چاروں شکلوں کے ما بین موازنہ کرتے جائیے کہ الف کی ادائیگی میں  زبان اور تالو کے درمیان کس قدر فاصلہ ہے اور امالہ صغریٰ میں کچھ کم ہوا ہے کیونکہ امالہ صغریٰ الف سے ہی قریب تر ہوتا ہے پھر امالہ کبری میں یہ فاصلہ اور کم ہو گیا ہے کیونکہ امالہ کبری الف اور یا کے مابین یعنی بیچ و بیچ ہوتا ہے اور پھر یا میں تو یہ فاصلہ بالکل ہی ختم ہو گیا ہے یہاں تک کہ زبان تالو سے جا ملی ہے کیونکہ یا کا مخرج ہی یہ ہے کہ بیچ زبان تالو سے مل کر یا ادا ہوتی ہے. 
امید ہے کہ ان تصاویر کی مدد سے آپ کو نہ صرف امالہ اور تقلیل کے درمیان فرق سمجھ میں آگیا ہو گا بلکہ اس کی ادائیگی بھی آسان ہو جائے گی.
لیکن یاد رکھیں ،  امالہ اور تقلیل کی ادائیگی کا تعلق کیف سے ہے اس لئے جب تک کہ کسی ماہر فن مشاق قاری کے سامنے بیٹھ کر بالمشافہ سیکھ نہ لیا جائے، کتابوں اور الفاظ و عبارات میں پڑھے ہوئے پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا.


ابو محمد سعدان مفتاحی 
مئو ناتھ بھنجن یو پی 


ہفتہ، 4 جولائی، 2020

بدھ، 1 جولائی، 2020

26 چھبیس جنوری پر اردو میں ایک پرمغز تقریر نمبر 3

الحمد للّٰہِ و کفیٰ ،و سلامٌ علی عبادہ الذین اصطفی ، اما بعد!
عالی جناب ناظم  صاحب ! صدر صاحب ، اساتذۂ کرام، اور معزز حاضرین!
آج ۲۶؍جنوری یوم جمہوریہ ہے،
دستور کا آغاز ہے یوم جمہوریہ 
                دستور کا آغاز ہے یوم جمہوریہ
                قانون کی آواز ہے یوم جمہوریہ
حضراتِ سامعین ! ۲۶؍جنوری، در حقیقت خوابوں کی تعبیر کا دن ہے، اوریومِ احتساب بھی ہے، یعنی ہم غور کریں ، اور سوچیں، کہ ہندوستان، کن خوابوں کی تعبیر تھا، اور وہ خواب کس حد تک پورے ہوئے، تا کہ وہ مقاصد، ہماری نظروں کے قریب رہیں ، جن مقاصد کے پیشِ نظر، ہمارے اکابرین نے، بے شمار قربانیاں دیں، اپنی جانون کا نذرانہ پیش کیا، اور خونِ جگر سے، گلستانِ ہند کی آبیاری کی، کیونکہ احساسِ منزل ہی، بے حِسی کا جمود توڑتاہے، اور حرکت کا جذبہ بھی پیدا کرتا ہے۔
سامعینِ کرام ! یومِ جمہوریہ ایک قومی دن ہے، جسے پورے ملک میں، بڑے جوش و خروش سے، منایا جاتا ہے، کیونکہ ، آج ہی کے دن ، یعنی ۲۶؍جنوری ، ؁ ۱۹۵۰ ء کو، آزاد ہندوستان کے آئین کے نفاذ، عمل میں آیا تھا،اور اسکے ساتھ ہی، ایک جمہوری طرزِ حکومت کا آغاز ہوا، اسی لئے آج کے دن کو، یومِ جمہوریہ کہا جاتا ہے۔
سامعین ! دستورِ ہند میں، ہمارے ملک کو، ایک سیکولر اسٹیٹ کہا گیا ہے، یعنی یہ ملک، مذہب  کی بنیاد پر حکومت نہیں کریگا، اور تمام مذاہب کا، احترام ضروری ہوگا، اور مذہب کی بنیاد پر، کسی کے ساتھ بھید بھاؤ نہیں کیا جائیگا، اور ذات  پات ، اور مذہب  کی بنیاد پر، کسی کو شہریت کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا، ہر ہندوستانی شہری ، قانون کی نگاہ میں برابرہے، ہر شہری کو آزادیِ رائے ، آزادیِ خیال ، اور آزادیِ مذہب، کا اختیار حاصل ہے۔
اسی لئے، ہندو مسلم، سکھ، عیسائی، اور دیگر تمام مذاہب کے لوگ ، اپنے اپنے مذہب پر، عمل کرتے ہوئے،ایک مشترکہ ، بڑی خوبصورت، گنگا جمُنی تہذیب کو فروغ دے رہے تھے، اور ملک ترقی کر رہا تھا۔ 
لیکن وطنِ عزیز کو، نہ جانے کس کی نظرِ بد لگ گئی ، کہ ہر طرف بد امنی ، اور بے چینی پھیلی ہوئی ہے، کچھ لوگ ہیں ، جنھیں قومی یکجہتی راس نہیں آتی، اور ہندو مسلم اتحاد کو، پارہ پارہ کر دینا چاہتے ہیں، اور گنگا جمنی تہذیب کو، تار تار کر دینا چاہتے ہیں ۔
میرے عزیزو! قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لئے، جمہوریت کی بقاء کے لئے، اور آئین کے تحفظ کے لئے ، ہمیں متحد ہو کر ان حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ تاکہ ایک بار پھر، ہمارا ملک، ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العٰلمین 
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

        اسکی پی ڈی ایف فائل یہاں سے
   Download 
 کر سکتے ہیں. 

منگل، 12 مئی، 2020

ایک معصوم بچہ اذان دیتے ہوئے

لاک ڈاؤن کے چلتے گھروں میں نماز با جماعت کے لئے اذان دیتے ہوئے ایک معصوم بچہ (محمد سعدان بن فیاض احمد). 
آرکائیو ڈاٹ او آر جی (orchive.org) پر دیکھنے کے لئےیہاں پر کلک کریں
اور یو ٹیوب پر دیکھنے کے لیے ویڈیو پر کلک کریں


Mohammad Sadan
محمد سعدان بن فیاض احمد عمر 3 سال 

پیر، 2 مارچ، 2020

جامعہ مفتاح العلوم شاہی کٹرہ مئو میں نو نہال بچے نماز کی مشق کرتے ہوئے

جامعہ مفتاح العلوم شاہی کٹرہ مئو ناتھ بھنجن میں نو نہال بچے نماز کی مشق کرتے ہوئے

اس ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جامعہ مفتاح العلوم شاہی کٹرہ مئو میں کتنے اہتمام کے ساتھ قوم کے نو نہال بچوں کو نماز کی مشق کرائی جاتی ہے. 

اتوار، 1 مارچ، 2020

26 جنوری کے موضوع پر اردو میں ایک شاندار تقریر نمبر 1

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للّٰہِ و کفیٰ ،و سلامٌ علی عبادہ الذین اصطفی ، اما بعد!
محترم عالی جناب ، ناظم صاحب، صدر مدرس صاحب، مشفق اساتذۂ کرام ، اور معزز حاضرین !
        آج کا یہ تاریخ ساز دن ، جس کو  ’’ جشنِ جمہوریت ‘‘ کےطور پر، ہر سال پورے ملک میں منایا جاتاہے، یہ ہم ہندوستانیوں کے لئے، قومی تہوار کا دن ہے، آج سے تقریباً، ۷۲ سال پہلے، پندرہ اگست  ؁ ۱۹۴۷ ء کو، ہمارا ملک، انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا، انگریز یہ ملک چھوڑ کر چلے گئے، لیکن چونکہ ، ابھی ہندوستان کا کوئی آئین ، مرتب نہیں ہوا تھا، اس لئے، آزادی کے بعد بھی کچھ دنوں تک، انگریزوں کے ، آئین کے مطابق ہی، ملک کا نظام چلتا رہا، لیکن جلد ہی ، اس وقت کے ہمارے جو عظیم قومی رہنما تھے، ان لوگوں نے ، آپسی صلاح و مشورہ سے ، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی قیادت میں ،ایک قانون ساز کمیٹی بنائی ، اور اس کمیٹی نے ، دو سال گیارہ مہینے کی، انتہائی کوشش کے بعد ، قانونِ ہند مرتب کیا، اور ۲۶ ؍ جنوری؁ ۱۹۵۰ ء کو، اس قانون کی ایک ایک کاپی ، پارلیمنٹ ، قانون ساز اسمبلی، اور عدلیہ کو سونپ دی گئی، کہ اب ملک کا نظام اسی آئین کے مطابق چلے گا، ہمارا یہ ملک، مختلف مذاہب ، اور مختلف قوموں کا گہوارہ ہے، یہاں ہر قسم کے لوگ بستے ہیں ، اور ہر مذہب کے ماننے والے یہاں موجود ہیں ، اس لئے دستورِ ہند میں ، تمام مذاہب ، اور تمام قوموں کی رعایت رکھی گئی ہے، اور آئین کی پہلی دفعہ یہ بنائی گئی کہ ’’ ہندوستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے‘‘ ، یعنی ہندوستان کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے،بلکہ اس ملک میں ، ہر مذہب کے ماننے والوں کے لئے ، مکمل آزادی ہے، کہ یہاں کا ہر باشندہ ، اپنے مذہب پر آزادی سے عمل کرتے ہوئے ، زندگی گذار سکتا ہے، دستورِ ہند کی یہ پہلی دفعہ ، در حقیقت ، یہی ہمارے ملک کی شناخت ہے، اور اسی پر عمل کر نے میں ، ملک ترقی کریگا، اور ملک کے اندر امنُ و سکون کا ماحول ، بنا رہے گا۔
علامہ اقبال کے ، اس شعر کے ساتھ ، میں اپنی بات ختم کرتا ہون کہ :
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا ،
ہندی ہیں ہم ، وطن ہے ہندوستاں ہمارا،
                                       وما علینا الا البلاغ ،
  والسلام ُعلیکم و رحمۃ اللہ 
     

         اسکی پی ڈی ایف(PDF) فائل یہاں سے
      DOWNLOAD  
  ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں.
            


26 جنوری کے موضوع پر اردو میں تقریر نمبر 2

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للّٰہِ و کفیٰ ،و سلامٌ علی عبادہ الذین اصطفی ، اما بعد!
     قابل ِ صد احترام ، جناب ناظم صاحب ، صدر صاحب ، اساتذۂ کرام ، اور معزز حاضرین !
آزد ہندوستان کی تاریخ میں ، دو دن انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ، ایک ۱۵ ؍اگست ، دوسرے ۲۶ ؍ جنوری ، ۱۵ ؍ اگست ؁ ۱۹۴۷ ء کو ملک ، انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا تھا، اس لئے، ہر سال ، ۱۵ ؍ اگست کو جشن ِ آزادی منایا جاتا ہے، آزادی کے بعد ، ہندوستان کو اپنا قانون بنانے کے لئے ، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی صدارت میں ، ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ، جسے ملک کا قانون مرتب کرنے میں ، دو سال گیارہ مہینے ، اور اٹھارہ دن لگے، جسے ۲۶ ؍ نومبر ؁ ۱۹۴۹ ء کو ، قبول کر لیا گیا، اور ۲۴؍ جنوری ؁ ۱۹۵۰ کو ، تمام ارکان نے اس پر تستخط کر دیئے، اس کے بعد ، ۲۶ ؍ جنوری ؁ ۱۹۵۰ ء کو ، یہ آئین نافذ کر کے، پہلا جشنِ یوم ِ جمہوریہ  منایا گیا، اسی لئے ہر سال ۲۶؍ جنوری کو، یوم ِ جمہوریت منایا جاتا ہے ۔
لیکن میرے عزیزو !۔۔جشن منانے کا یہ دن ، کوئی ایک دو انگلی کٹا کر نہیں ملا ہے، کوئی سال دو سال احتجاج کرکے نہیں ملاہے۔ اگر آپ ؁ ۱۸۵۷ ء سے بھی ، تاریخ کا حساب لگائیں ، تو نوے سال کی طویل جنگِ آزادی، اور بے شمار جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے بعد ، آزادی اور جشن کا ، یہ دن میسر ہوا ۔
اور اس دوران ظلم و بربریت کی ایک طویل داستان لکھی گئی ، جس کا ہر صفحہ ہندوستانی مسلمانوں کے خو ن سے لت پت ہے، آزادی کے جذبہ کے ساتھ ، سر پر کفن باندھے ، اپنی تہذیب کی بقاء، اور وطنِ عزیز کی آزادی کی خاطر ، انگریز فوج کی توپوں،اور گولیوں کے آگے ، سینہ سِپَر ہونے میں ،مسلمان صفِ اول میں تھے ۔
میرے عزیزو ! آزادی کے بعد ، دستورِ ہند کی روشنی میں ، ہندوستان کو ایک جمہوری ، اور سیکولر ملک تشکیل دیا گیا ، چنانچہ دستور کے، ابتدائیہ میں، صاف لفظوں میں یہ لکھا گیا ہے ، کہ ’’ ہم ہندوستانی عوام ، تجویز کرتے ہیں کہ، ہندوستان کو، ایک آزاد، سماج وادی ، اور جمہوری ملک کی حیثیت سے، وجود میں لا جائے، ہر شہری کے لئے، سیاسی، سماجی، اور معاشی انصاف حاصل ہو ، خیالات اور اظہارِرائے کی آزادی ہو، مذہب ، عقیدہ، اور عبادات کی آزادی ہو، ہر شخص کے انفرادی تشخص، اور احترام کو یقینی بنایا جائے، اور ملک کی سالمیت ، اوریکجہتی کو قائم و دائم رکھا جائے‘‘۔ 
سامعین ِکرام ! 
الغرض:۔۔۔ ۲۶؍ جنوری ہمیں یاد دلاتا ہے، کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، یہاں کے دستور میں ، تمام فرقے، اور مذہب کے لوگوں کو ، یکساں حقوق دئے گئے ہیں ، اور ملک کی ترقی کے لئے، آئین کی بالا دستی ، اور قانون کی حکمرانی ضروری ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس لئے آئیے ، ہم عہد کرتے ہیں، کہ آئین کے تحفظ ، اور قانون کی حکمرانی کے لئے ، ہمیں جو بھی قربانی دینی پڑیگی ، ہم اس سے گریز نہیں کریں گے ۔
یہ نفرت بری ہے نہ پالو اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔دلوں میں خلِش ہے نکالو اسے
نہ تیرا نہ میرا نہ  اِسکا نہ اُس کا ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ وطن ہے ہم سب کا بچا لو اسے
اسی عزم کے ساتھ میں اپنی بات ختم  کرتاہوں ۔ 

و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العٰلمین 
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ   
   
   اسکی پی ڈی ایف(PDF) فائل یہاں سے
         DOWNLOAD 
     کر سکتے ہیں.



جمعہ، 28 فروری، 2020

قراء سبعہ کے بنیادی اصول و قواعد

قراءت سبعہ کے  اور بنیادی اصول و قواعد :

آسان اور سادہ لفظوں میں 



·       سوال-علم قراءت کی تعریف کرو۔اور اسکی غرض و غایت بیان کرو۔

·       جواب-وہ علم ہے جس کے ذریعہ کلمات قرآنیہ  کی ادائیگی کی کیفیت  اور انکا اختلاف معلوم ہو ، انکے  ناقلین کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔

·       موضوع : اسکا موضوع کلمات قرآنیہ ہیں،  انکے  تلفظ اور ادائیگی کے اعتبار سے۔

·    غایت : —— اسکی غرض کلمات  قرآنیہ کو لفظی غلطی ،تغیر و تبدل اور تحریف سے محفوظ رکھناہے، نیز ائمہٴ  قراءات کی قراءتوں کے درمیان امتیاز پیدا کرنا ہے۔

·       سوال-ساتوں قراء کے نام بتاؤ۔

·       جواب-نافع مدنی، ابن کثیر مکی، ابو عمرو بصری، ابن عامر شامی، عاصم کوفی ، حمزہ کوفی، کسائی کوفی۔

·       سوال-جمع الجمع کے کتنے طریقے ہیں ؟ہر ایک کو بیان کرو۔

·       جواب-جمع الجمع کے تین طریقے ہیں—

·       جمع عطفی —جمع حرفی —جمع وقفی۔

·       جمع عطفی : جمع عطفی وہ جمع ہے جس میں موقف کے قریب سے اختلافی وجہ کو پہلے پڑھتے ہیں۔پھر جو اسکے قریب ہوتاہے اسے پڑھتے ہیں۔ اور جب کلمہ واحدہ میں متعدَّد وجوہ ہوں تو قراء کی ترتیب سے پڑھتے ہیں۔ اس جمع میں ہر مرتبہ موقف تک قراءت ہوتی ہے۔

·       جمع حرفی :  اس جمع میں جس کلمہ میں جتنی وجوہ ہوتی ہیں سب کو اسی جگہ قراء کی ترتیب سے پڑھ کر آگے بڑھتے ہیں، اسی طرح ہر کلمہ مختلِفہ پر کرتے ہیں۔

·       جمع وقفی : اس جمع میں ہر مرتبہ مبدأ سے موقف تک قراء کی ترتیب سے قراءت کی جاتی ہے۔

·       سوال-جمع الجمع میں سب سے پہلے کس کی روایت پڑھی جاتی ہے ؟

·       جواب-جمع الجمع میں سب سے پہلے قالون کی روایت پڑھی جاتی ہے۔

·       سوال-میم جمع میں صلہ کن لوگوں کے لئے ہے ؟

·       جواب-میم جمع  میں قالون کے لئے صلہ بالخلف ہے ۔

·       اور  —— مکی  کے لئے صرف صلہ ہے۔

·       اور اگر میم جمع  کے بعد ہمزہ قطعی ہو تو  —

·       ورش ————کے لئے صلہ مع الطول ہوتاہے۔

·       سوال-ورش کے لئے  لام مفتوح  کب پُر   ہو تاہے؟

·       جواب-جب   صاد ، طا  ء،    اور   ظاء   کے بعد  لام مفتوح ہو تو ورش کے لئے لام کو پُر پڑھا جاتا ہے۔

·       سوال- مد بدل کسے کہتے ہیں ؟   اور اس میں کتنی وجہیں پڑھی جاتی ہیں ؟  اور یہ کس کے لئے ہے ؟

·       جواب-مد بدل  وہ مد  ہے جس میں حرف مد سے پہلے  ہمزہ  ہو جیسے اٰ مَنَ، اُوتُوا،  ایماناً وغیرہ۔

·       اور اس میں تین وجہیں —قصر ، توسط ، طول — پڑھی جاتی ہیں ۔ اور یہ صرف ورش کے لئے ہے۔

·       سوال- ھاء ضمیر  میں صلہ کس کے لئے ہو تا ہے؟

·       جواب- ھاء ضمیر   میں صلہ ابن کثیر مکی کے لئے ہوتا ہے۔

·       سوال- الناس  مجرور میں امالہ کس کے لئے ہوتا ہے؟

·       جواب- الناس  مجررور میں امالہ صرف ددوری  بصری کے لئے ہوتا ہے۔

·       سوال- قیل  میں اشمام کن  کے لئے ہے؟ اور اس اشمام کی تعریف کیا ہے؟

·       جواب- قیل  میں اشمام  ، ہشام اور  امام کسائی کے لئے ہے۔

·       اشمام   کی صورت یہ ہے کہ  قیل  کے  قاف  پر ایک ایسی حرکت دی جائے جو ضمہ اور کسرہ دونوں حرکتوں سے مرکب ہو، اور ضمہ کا جزو مقدم اور کم ہو — اور کسرہ کا جزو مؤخر اور زیادہ ہو۔

·       سوال- تاء تانیث  پر وقفاً  امالہ کس کے لئے  ہے؟

·       جواب- تاء تانیث  پر وقفاً    امالہ امام کسائی کے لئے ہے۔

·       سوال- ذوات الیاء  اور  ذوات الراء  کسے کہتے ہیں؟

·       جواب- ذوات الیاء :   وہ الفات متطرفہ ہیں جو مبدل من الیاء ہوں —یا مرسوم بالیاء ہوں۔ جیسے  الھدیٰ، موسیٰ و عیسیٰ  وغیرہ۔

·       ذوات الراء :   وہ الفات متطرفہ ہیں جو مبدل من الیاء ہوں یا مرسوم بالیاء ہوں

·       —اور  راء — کے بعد واقع ہوں۔ جیسے  اشتریٰ ، اُسا ریٰ، نصاریٰ   وغیرہ۔

 

·       سوال- ذوات الیاء  اور  ذوات الراء  ذوات الراء میں قراء کے مذاہب بیان کرو۔

·       جواب-ورش  ——کے لئے ذوات الیاء ( غیر فواصل )میں دو وجہ ہے۔

  ————— فتحہ  اور  تقلیل۔

·       اور ذوات الراء میں صرف —تقلیل —کرتے ہیں ۔

·       ابو عمرو بصری  —— ذوات الیاء  فَعلیٰ ، فِعلیٰ  ، فُعلیٰ  کے وزن پر ہو تو تقلیل کرتے ہیں۔

    —اور ذوات الراء میں مطلقا ًامالہ کرتے ہیں ۔

·        حمزہ ، کسائی ذوات الیاء اور ذوات الراء دونوں میں مطلقاً امالہ کرتے ہیں۔

·       سوال -موصول اور مفصول کسے کہتے ہیں ؟

·       -حرف صحیح ساکن یا حکم میں صحیح ساکن کے بعد ہمزہ  اگر ملا کر لکھا گیا ہو جیسے   الارض ، الانسان  وغیرہ  تو اسے موصول کہتے ہیں ۔

·       اور اگر الگ  الگ لکھا گیا ہو تو اسے مفصول کہتے ہیں ، جیسے  من اٰ من ، خلو الیٰ ، لکبیرة الا  وغیرہ ۔

·       سوال-لفظ   شَیء  اور  موصول  میں سکتہ کن کے لئے ہے؟

·      جواب-لفظ   شَیء  اور  موصول  میں(( وصلاً)  خلف کے لئے بلا خلف اور خلاد کے لئے بالخلف سکتہ ہے۔

·       سوال-موصول  میں وقفاً خلف اور خلاد کے لئے  کتنی وجہیں ہیں ؟

·       جواب-موصول  میں وقفاً خلف اور خلاد دونوں  کے لئے صرف دو وجہیں ہیں  —

      نقل  سکتہ۔

·       سوال- مفصول  میں سکتہ کس کے لئے ہے؟

·       جواب-مفصول میں صرف خلف کے لئے سکتہ بالخلف ہے۔

·       سوال-مفصول  میں وقفاً خلف اور خلاد کے لئے کتنی وجہیں ہیں ؟

·       جواب-مفصول  میں وقفاً خلف کے لئےتین وجہیں جائز ہونگی،نقل، تحقیق اور سکتہ  ۔

·         جبکہ خلاد کے لئے صرف دو وجہیں جائز ہونگی، نقل اور تحقیق ۔

·       سوال- شَیْء  میں   امام حمزہ و ہشام  کے لئے وقفاً کتنی وجہیں ہیں؟

·         جواب-شَیء  میں   امام حمزہ و ہشام  کے لئے دو وجہیں ہیں —

·       نقل — یعنی ہمزہ کی حرکت نقل کر کے یاء کو دیدیں اور ہمزہ کو حذف کر دیں، پس  شَیْ  ہو جائے گا ۔

·       ابدال —  یعنی ہمزہ کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کر دیں، پس  شَیّ  ہو جائے گا۔

·       سوال- شَیئاً  میں وقفاً امام حمزہ کے لئے کتنی وجہیں ہیں ؟

·       جواب-شَیئاً  میں وقفاً امام حمزہ کے لئے دو وجہیں ہیں —

  نقل  یعنی ہمزہ کی حرکت نقل کر کے یاء کو دیدیں اور ہمزہ کو حذف کر دیں،  شَیَا  ہو جائے گا۔

  ابدال —  یعنی ہمزہ کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کر دیں، پس  شَیَّا  ہو جائے گا۔

·       سوال- السفھاءُ  مرفوع اور  السماءِ  مجرور میں وقفاً امام حمزہ  و ہشام کے لئے  وجوہ خمسہ  کی تشریح کریں۔

·       جواب-السفھاءُ  مرفوع اور  السماءِ  مجرور اور اسکے مثل میں وقفاً امام حمزہ  و ہشام کے لئے کل پانچ وجہیں  جائز ہونگی جن کو   وجوہ خمسہ   کہتے ہیں۔

·       ابدال بالالف  — — مع وجوہ ثلٰثہ —قصر ، توسط ، طول ۔

·       تسہیل بالروم    — مع المد والقصر ۔

·       یعنی حمزہ کے لئے تسہیل مع الطول والقصر — اور ہشام کے لئے تسہیل مع التوسط والقصر ۔

·       نوٹ :   ابدال بالالف کے لئے وقف بالاسکان اور تسہیل کے لئے وقف بالروم لازم ہے۔

·        سوال- السماءَ  منصوب میں امام حمزہ وہشام کے لئے وقفا ً  وجوہ ثلٰثہ  کی  تشریح کریں۔

·       جواب-السماءَمنصوب اور اسکے مثل میں امام حمزہ وہشام کے لئے وقفاً صرف  ابدال بالالف  مع وجوہ ثلٰثہ — —قصر ، توسط ، طول — ہی ہیں۔

·       سوال- بِناءً (منصوب مُنَوَّنْ )  اور اسکے مثل میں امام حمزہ کے لئے   وقفاًکتنی وجہیں ہونگی؟

·       جواب- اسمیں   امام حمزہ  کے لئے  وقفاً   —   تسہیل بالروم  —مع المد والقصر دو وجہیں جائز ہونگی ۔

·         نوٹ : بِنَاء ً وغیرہ میں ہمزہ منصوب منون ہونے کی وجہ سے متوسط بن جا تا ہے لہذا ان میں ہشام شریک نہیں ہونگے ۔

·       سوال-ادغام کبیر کسے کہتے ہیں    ؟  اور یہ کس کے نزدیک ہے؟

·       جواب- حرف متحرک کو ساکن کر کے بعد والے حرف میں ملا کر مشدد پڑھنے کو ادغام کبیر کہتے ہیں ۔ (ادغام کبیر بشرط روایت مثلین، متجانسین  اور متقاربین ، تینوں میں ہوتاہے۔ )اور یہ ادغام صرف سوسی کے لئے ہو تا ہے۔جیسے  لَذَھَبَ بِسَمْعِھِم۔

·       سوال- مد لین متصل    میں میں ورش کے لئے کتنی وجہیں ہیں ؟

·       جواب-مد لین متصل  میں  ورش کے لئے  مطلقاً  دو وجہیں ہیں —

        توسط — طول جیسے شَیْءٌ  اور  اَلسَّوْءِ  ۔

·       سوال- تقلیل  اور  امالہ صغریٰ  میں کیا فرق ہے؟

·       جواب- دونوں ایک   ہی چیز کے دو نام ہیں ہیں۔

·       سوال- امالہ صغریٰ  اور  امالہ کبریٰ    کی تعریف کریں۔

·       جواب- امالہ صغریٰ : — فتحہ کو کسرہ اور الف کو یاء کی طرف  مائل کرنا ،لیکن باوجود اسکے فتحہ اور الف سے ہی قریب تر ہو۔

·       امالہ کبریٰ فتحہ کو کسرہ اور الف کو یاء کی طرف اتنا مائل کرنا کہ مبالغہ اور زیادتی نہ ہونے پائے۔ 

·       سوال- یاءات الا ضافت  اور  یاءات الزوائد — کسے کہتے ہیں؟

·       جواب- یاء اضافت —  اس یاء متکلم کو کہتے ہیں جو زائد عنِ المادّہ  ہوتی ہے۔ یعنی لام کلمہ واقع نہیں ہوتی لیکن مرسوم ہوتی ہے ۔

    خواہ اسم میں ہو، یا فعل میں ، یا حرف میں ۔  اِنّی َ اَعْلَمُ

·       اور  اس میں قراء کا اختلاف ساکن اور مفتوح پڑھنے کا ہو تا ہے۔

·       اور  یاء زائدہ  — اس یاء کو کہتے ہیں جس کے حذف اور اثبات میں قراء کا اختلاف ہو ۔اور یہ محذوف الرسم ہوتی ہے۔جیسے  الداعِ اِذا دَعانِ  میں   الداعِیْ اِذا دَعانِیْ

·       اسکے علاوہ بھی پہچان کی علامتیں بیان کی گئیں ہیں۔